وارانسی،25؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) گیان واپی مسجد-کاشی وشو ناتھ مندر تنازعہ میں ایک اہم پیشرفت اس وقت ہوئی جب مسلم فریق نے مسجد سے ملحقہ اراضی مندر کیلئے پیش کر دی۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم فریق نے 1700 مربع فٹ زمین خیرسگالی کے طور پر مندر انتظامیہ کو سونپ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مندر انتظامیہ کی جانب سے بھی مسلم فریق کو 1000 مربع فٹ اراضی کسی دوسرے مقام پر فراہم کی گئی ہے۔ تاہم مسلم فریق کیلئے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا کیونکہ یہ زمین گیان واپی مسجد کے عین سامنے موجود ہے۔ مندر انتظامیہ نے مسلم فریق سے کاشی وشوناتھ گلیارہ بنانے کیلئے مذکورہ اراضی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اپیل پر مسلم ذمہ داروں نے غورو خوض کیا اور گزشتہ 8 جولائی کو اس زمین کی باضابطہ طور پر رجسٹریشن کرا دی گئی۔ اس زمین پر 1993 کے بعد سے ہی عارضی پولیس کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
مسلم فریق نے اس زمین کو ضلع انتظامیہ کو اس شرط کے ساتھ لیز پر دیا گیا تھا کہ اگر کنٹرول روم توڑا جاتا ہے تو معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ دریں اثنا، جب کاشی وشوناتھ کاریڈور کو وسعت دی جانے لگی تو مندر انتظامیہ نے مسلم ذمہ داروں سے زمین فراہم کرنے کی اپیل کی۔ اسی کے ساتھ مدت طویل سے چلا رہا یہ معاملہ اختتام کو پہنچا۔
خیال رہے کہ گیان واپی مسجد کا مسئلہ وارانسی کی عدالت میں زیر غور ہے اور 8 اپریل کو وارانسی کی سینئر ڈیویژن فاسٹ ٹریک کورٹ نے اے ایس آئی کو گیان واپی مسجد کا سروے کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سنی وقف بورڈ اور انجمن انتظامیہ مساجد کی جانب سے عدالت میں نظر ثانی کی عرضی دائر کی گئی تھی۔